دکن میں اردو مرثیہ نگاری
اردو مرثیہ نگاری
کا آغاز دکن میں ہوا۔ اس صنف کی
سرپرستی بھی صوفیائے کرام کے ذریعے ہوئی۔
اس کے ابتدائی نقوش بہمنی سلطنت کے عہد میں نظر آتے ہیں۔ اشرف بیابانی کو اردو کا
پہلا مرثیہ نگار مانا جاتا ہے۔ اردو کا پہلا دستیاب مرثیہ ’نوسرہار‘ ہے جسے اشرف
بیابانی نے ۱۵۰۳َء میں لکھا۔
قطب شاہی سلطنت:
قطب شاہی عہد میں
جہاں دیگر اصناف شعر و ادب کو عروج ملا وہیں اردو مرثیہ کو بھی ترقی کرنے کا موقع
ملا۔ اس سلطنت کے عہد کےعظیم شعرا نے مرثیہ گوئی میں حصہ لیا۔ ملا وجہی، غواصی اور
محمد قلی قطب شاہ جیسے عظیم شعرا نے بھی مرثیے لکھے۔ محمد قلی قطب شاہ نے تقریباً
پانچ مرثیے لکھے جو ان کے کلیات میں شامل ہیں۔ اسی طرح ملا وجہی نے بھی بہت سادہ
انداز میں دو مرثیے لکھے۔ غواصیؔ کے چھ مرثیے بھی اس روایت میں اضافے کی حیثیت رکھتے
ہیں۔ انھوں نے بھی مرثیہ کو بہت سادہ انداز میں پیش کیاہے۔ اس سلسلے میں عبداللہ
قطب شاہ کا نام بھی قابل ذکر ہے۔ انھوں نے مرثیہ کے فن کو سنوارا اور سجایا۔ انھوں
نے مرثیے کو ترقی کا نیا راستہ دکھایا۔ چونکہ عبداللہ قطب شاہ کو مرثیہ نگاری سے
کافی دلچسپی تھی اس لیے انھوں نے اس صنف میں اپنی قابلیت کا اظہار کیا اور دیگر
مرثیہ گو شعرا کی انھوں نے حوصلہ افزائی بھی کی۔ انھوں نے غزل کی ہیئت میں چار مرثیے
لکھے۔ اسی طرح قطب شاہی کے آخری تاجداراابولحسن تاناشاہ نے بھی مرثیے کہے۔ ان کے
علاوہ سید شاہ راجوؔ، قطب الدین قطبی، طبعی، عابد، سیوک، کاظم، افضل، لطیف، ذوقی،
احمد نوری اور مشتاق وغیرہ شعرا نے بھی مرثیے لکھے۔ ان شعرا کا تعلق بھی قطب شاہی
عہد سے تھا۔ گویا قطب شاہی عہد میں مرثیے کی روایت میں قیمتی اضافہ ہوا۔
عادل شاہی سلطبت:
یہ عہد بھی اردو
شعر و ادب کے لیے کافی سازگار رہا ہے۔ قطب شاہی بادشاہوں کی طرح عادل شاہی سلاطین
نے بھی اردو شعر و ادب میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور دیگر شعرا کی سرپرستی بھی کی۔
مرثیہ نگاری کے حوالے سے دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس عہد میں مرثیے کو کافی
فروغ حاصل ہوا۔ اس عہد کے پہلے مرثیہ گو مشہور صوفی برہان الدین جانم ہیں۔ ان کے
مرثیے کی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے اس میں فلسفۂ تصوف کو بھی شامل کرکے مرثیہ نگاری کو ایک نیا راستہ دکھایا۔ ملک خوشنود کا
تعلق بھی اسی عہد سے تھا۔ انھوں نے بھی تین مرثیے لکھے جو غزل کی ہیئت میں ہیں۔
عادل شاہی سلطنت کے مشہور بادشاہ علی عادل شاہ ثانی جنہوں نے اردو زبان و ادب کی
گراں قدر خدمت کی انہوں نے مرثیہ گوئی میں بھی حصہ لیا۔ انھوں نے ۱۶ مرثیے لکھ کر
اس روایت میں قیمتی اضافہ کیا۔
علی عادل شاہی
ثانی کے درباری شاعر نصرتیؔ نے بھی مرثیہ نگاری میں حصہ لیا لیکن ان کا دستیاب
مرثیہ نامکمل ہے۔ اسی طرح مرثیہ نگاری کا ایک بڑا نام مرزاؔ کا ہے۔ ڈاکٹر مسیح
الزماں نے انہیں دکن کا سب سے بڑا مرثیہ گو شاعر مانا ہے۔ ان کے علاوہ عادل شاہی
عہد سے تعلق رکھنے والے دیگر شعرا نے بھی مرثیہ نگاری کی روایت میں حصہ لیا۔ ان میں
عبدل، مقیمی، امین، ملک خوشنود، شاہ ملک، ہاشمی، حسینی، قادر اور ندیم وغیرہ کے
نام قابل ذکر ہیں۔ انہوں نےاردو مرثیہ نگاری کو فروغ عطا کرنے میں اہم کردار ادا
کیا۔ ان کے علاوہ اور بھی متعدد شعرا ہیں جن کا تعلق دکن کے مختلف عہد سے تھا۔
انہوں نے بھی مرثیہ گوئی کی روایت میں اضافہ کیا۔ بہر حال اس مختصر جائزے کے بعد
پتہ چلتا ہے کہ اردو مرثیہ گوئی کا آغاز دکن میں ہوا اور دکن میں اسے فروغ بھی
حاصل ہوا۔
ڈاکٹر مطیع الرحمن
0 Comments