ابن انشا کے سفرناموں کی انفرادیت (ڈاکٹر مطیع الرحمٰن) | Ibne Insha Ke Safarnamon Ki Infiradiyat (Dr. Motiur Rahman)

ابن انشا کے سفرناموں کی انفرادیت

ابن انشا کے سفرناموں کی انفرادیت

 سفر نامہ نگاری:

سفرنامہ نگاری اردو ادب میں ایک ایسی منفرد صنف ہے جس میں کوئی شاعر یا ادیب سفری حالات، تاثرات و مشاہدات اور تجربات کو تحریری شکل دیتا ہے۔ دوران سفر سیاح اپنی آنکھیں کھلی رکھتا ہے اور ان ملکی یا غیر ملکی سیاحتی خطوں اور مقامات کے تمام خارجی و باطنی پہلوؤں، ادنیٰ و اعلی تمام مناظر فطرت، مصنوعات، ماحولیات، حیاتیات، موسمیات، معاشیات، جغرافیہ، تاریخ، تہذیب و تمدن، سماج، معاشرہ، سیاست، قانون، انتظامی امور، صنعت و حرفت، زراعت اور تجارت غرض یہ ہے کہ ہر ایک عوامل ومحرکات کا بہ نظر غائر مشاہدہ کرتا ہے اور پھر اپنے تاثرات، احساسات اور ذاتیات کو بلا تامل اپنے دلچسپ اسلوب و انداز کے سہارے صفحہ قرطاس پر نقش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سفرنامے  مختلف علوم و فنون کے لئے بہترین منبع ثابت ہوتے ہیں اور سیاہ کے عینی مشاہدے و معتبر شواہد کی بنیاد پر اس صنف کو استناد کا درجہ بھی حاصل ہے۔

اردو میں سفرنامہ نگاری کی روایت انیسویں صدی عیسوی میں قائم ہوئی۔ دیگر زبانوں میں سفرنامہ نگاری کی روایت خاصی قدیم ہے، عربی اور فارسی میں بھی اس کی روایت پہلے سے مستحکم تھی بعد میں اردو ادب نے اس صنف کو اپنی آغوش میں لیا اور اہل اردو ادب نے مختلف عہد میں متعدد تبدیلیوں اور رنگوں کے ذریعہ اسے سنوارا اور سجایا۔ ابتدا میں سفر نامے کی نوعیت ذرا مختلف تھی۔ اس وقت تاریخی، جغرافیائی، تہذیبی، سماجی اور سیاسی منظر نامے وغیرہ کو خاص اہمیت حاصل تو تھی لیکن ان کا اصل مقصد ان سے متعلق معلومات کی فراہمی ہوتا تھا، جب کہ بعد میں اس رجحان میں تبدیلی آئی اور معلومات کی فراہمی کے ساتھ اپنے تاثرات، مثبت اور منفی پہلوؤں پر ذاتی رائے اور دو قوموں اور تہذیبوں کے مابین تقابل کو بھی اہمیت دی گئی۔ اسی طرح اپنے مشاہدات پیش کرنے میں ادبیت کا رجحان پہلے سے زیادہ فروغ پایا اور جدید و منفرد اسالیب کو اختیار کیا جانے لگا۔ اس سلسلے میں سرفہرست نام ابن انشا کا بھی ہے جو جہان سفرنامہ نگاری میں آفتاب کی روشنی اور چاند کی چمک کا درجہ رکھتا ہے۔

   ابن انشا کی سفرنامہ نگاری:

سفرنامہ نگاری کے باب میں ابن انشا منفرد شناخت کے حامل ہیں۔ ان کا منفرد اور جدید اسلوب و آہنگ اور دلچسپ و شگفتہ انداز بیان سفرنامہ نگاری کو نئی جہت سے آشنا کرتا ہے۔ سفر نامے میں طنز و مزاح کا عکس تو ابن انشا سے پہلے مختلف سفرناموں میں بھی نظر آتا ہے اور اس سلسلے میں شفیق الرحمن کا سفر نامہ "برساتی بیگم" اختر ریاض الدین کا سفر نامہ "سات سمندر پار" اور اعلی قد کے مزاح نگار ابراہیم جلیس کا سفر نامہ "نئی دیوار چین" وغیرہ قابل ذکر ہیں جہاں طنزومزاح کے نمونے موجود ہیں۔ لیکن ابن انشا کے سفرناموں میں طنزومزاح کا جو ذائقہ اور انداز نگارش موجود ہے اس کی وجہ سے ابن انشا بطور مزاحیہ سفر نامہ نگار سر فہرست ہیں۔انہوں نے اس صنف کو مزاح سے جوڑ کر سفرنامے کو نئی روش سے آشنا کیا، جس پر چلنا ان کے ہم عصروں اور بعد کے ادیبوں نے بھی قابل فخر سمجھا. یہیں سے مزاحیہ سفرناموں کا ایک کامیاب سلسلہ شروع ہوتا ہے اور دیکھتے دیکھتے "بجنگ آمد" کرنل محمد خان "امریکہ میری عینک سے" یوسف ناظم "جاپان چلو جاپان" اور "سفر لخت لخت" مجتبیٰ حسین جیسے خوبصورت اور باوقار مزاحیہ سفر نامے بھی وجود میں آئے۔ اس طرح ابن انشا نے سفرنامہ نگاری میں مزاحیہ اسلوب کا جو بیج بویا تھا اسے آج بھی ہمارے ادیب سنوار نے سجانے اور پر رونق بنانے میں حتی الامکان کوشاں ہیں۔

انفرادیت:

مزاحیہ سفر ناموں میں ابن انشا کی پہچان جداگانہ ہے۔ انہوں نے اپنے مخصوص لب و لہجہ اور مزاحیہ اسلوب کے ذریعہ سفر نامہ نگاری میں ایک ہلچل پیدا کردی۔ ابن انشا مزاحیہ سفر نامہ کے سرتاج ہیں اور ایک تابناک نگینہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے سفرناموں میں مزاحیہ جملوں کی تلاش نہیں کرنی پڑتی کیونکہ تقریباً ان کے ہر جملے اور تمام فقرے شوخی و ظرافت اور لطیف طنز اور پرلطف مزاح سے پر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قاری کو لمحے بھر کے لیے بھی اکتاہٹ کا احساس تک نہیں ہوتا، بلکہ قاری ھل من مزید کرتے ہوئے آگے بڑھتا جاتا ہے۔ ان کے سفرناموں کو کامیابی ان کے مخصوص اسلوب سے ملی، ان کے اسی جدید اور دلچسپ اسلوب اور منفرد طرز نگارش اور شگفتہ بیانی کے مدنظر مشتاق احمد یوسفی نے لکھا ہے کہ:

"اردو مزاح میں یہ اسلوب اور آہنگ نیا ہی نہیں ناقابل تقلید بھی ہے"

 ( انشائیے انشا جی کے مشمولہ اردو کی آخری کتاب ابن انشاء لاہور اکیڈمی 1971 ص6،7)

ابن انشا کے سفرناموں کی کل تعداد پانچ ہے ان کے تمام سفرنامے دراصل ان کے سفری کالموں کے مجموعے ہیں ابن انشا روزانہ پورے دن کا روداد سفر اور اپنے تمام تاثرات کو اسی وقت من و عن رقم کر دیتے اور پھر وہ سفری روداد کالم کی شکل میں مختلف اخبار کا حصہ بھی بنتے تھے۔ اس سے فائدہ یہ ہوتا تھا کہ ان کے تمام مشاہدات و تاثرات بغیر حذف واضافہ قاری تک پہنچ جاتے۔ لیکن اس کمی سے بھی انکار نہیں کہ ان کے سفرنامے بے ترتیبی کے شکار ہوگئے مگر ابن انشا کا وہی منفرد اسلوب 

اس کمی پر بھی حاوی ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے قاری کو بے ترتیبی کا احساس تک نہیں ہوتا۔


چلتے ہو تو چین کو چلیے:

ابن انشا کا پہلا سفر نامہ چلتے ہو تو چین کو چلیے ہے۔ یہ اردو سفرناموں کا ایک گراں قدر سرمایہ ہے۔ یہ ابن انشاء کی سیاحت چین کا ایسا بےحد معروف و مقبول سفرنامہ ہے جو جہان اردو ادب میں منفرد شناخت کا حامل ہے۔ یہ وہ مایا ناز سفرنامہ ہے جہاں سے مزاحیہ سفر نامے کا ایک نیا باب کھلتا ہے۔ یہ ایسا منفرد سفر نامہ ہے جو اپنے تمام تر موضوعات میں مزاح کی چاشنی لیے ہوئے ہے اور وہیں لطیف طنز کی ہلکی لہر بھی موجود ہے جو قلب قاری کو متحرک بھی کرتی ہے۔ دراصل ابن انشا کو ثقافتی تبادلے خیال کی غرض سے اپریل 1966 میں پاکستانی ادیبوں کے ایک وفد کے ساتھ چین کی سیاحت کا موقع ملا۔ وہاں ان کا قیام 25 دن کا تھا ان کے انہی ایام کے مشاہدات و تاثرات پہلے بطور کالم روزنامہ جنگ کا حصہ بنتے رہے، بعد میں ان سفری کالموں کا مجموعہ1967 میں چلتے ہو تو چین کو چلیے کے نام سے منظر عام پر آیا۔.

سفرِ چین سے پہلے ہی ابن انشا کو چین سے خاص لگاؤ تھا چین سے متعلق ان کا مطالعہ بھی وسیع تھا۔ انہوں نے چینی نظموں کا اردو ترجمہ بھی کیا۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے 1949 میں چین کی معاشی بدحالی پر مبنی نظم "شنگھائی" بھی لکھی۔ یہ نظم آزادی چین سے پہلے کی حالت بیان کرتی ہے جس وقت شنگھائی کی سڑکوں پر لاکھوں انسان بھوک مری اور سردی کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر جان دے رہے تھے۔ اس نظم کی تخلیق کے تقریباً سولہ سال بعد جب ابن انشا نے چین میں قدم رکھا تو وہاں کی ترقی کی تیزرفتاری نے ان کو عالم حیرت میں ڈال دیا. چین بھی ایک ایسا ملک ہے جسے ہندوستان کی طرح سامراجی طاقتوں نے کھوکھلا کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھا تھا.۔لیکن آزادی کے بعد چین نے جس تیز رفتاری سے شعبوں میں ترقی کی اسے دیکھ کر ابن انشا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا حیران رہ گئی اور یہ سلسلہ اب کئی گنا زیادہ ہے۔ بہرحال ابن انشا چین پہنچے تو ان کے تصور کے برعکس چین ہزار گنا مختلف نظر آیا. ابن انشا نے اس سفر نامے میں انہی مشاہدات و تاثرات کو کامیابی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ وہاں کی تہذیب و ثقافت، رہن سہن، معمولات زندگی، فکر و شعور، نظام معاشرت، اصول و ضوابط، حیات، قوانین، تعلیمی ماحول و نظام اور صنعت گاہیں وغیرہ جیسے تمام پہلوؤں کو انہوں نے اپنے مشاہدات کے آئینے میں موثر انداز سے پیش کیا ہے۔ محض یہی نہیں بلکہ اپنے کاموں سے اہل چین کی محنت و لگن جوش و جذبہ اور بلند ہمتی نے بھی ابن انشا کو بے حد متاثر کیا. عورت، مرد، بچّے، بوڑھے اور امیر و غریب سب کے بے پناہ جذبے چاہے وہ ذاتی کام سے متعلق ہوں یا اپنے ملک کی خدمت کے لیے ہوں، ہر معاملے میں ان کا جوش انہیں یکساں نظر آیا۔ خصوصاً انھوں نے نونہال اسکولی طلبہ کا ذکر کیا ہے جنہیں ابن انشا نے محنت و لگن کے ساتھ شجرکاری میں مصروف دیکھا چینی افراد کے جذبوں سے ہی متعلق انہوں نے چین کے ان دس عظیم عمارتوں کا بھی ذکر کیا ہے جن عمارتوں کو چینی آزادی کی دسویں سالگرہ منانے کے لئے 10 مہینے میں تیار کیا گیا۔ یہاں ابن انشاء کے لیے حیرانی کی بات یہ تھی کہ چین کے عام افراد بھی اپنے کام سے فارغ ہو کر بہت ہی جوش و جذبے سے ان عمارتوں کے تعمیری کام میں حصہ لیتے تھے۔ اس طرح مختلف شعبوں میں کام کرنے والوں کا بےپناہ جذبہ بھی ان کے لیے حیران کن تھا. شاید چینیوں کا یہی جذبہ چین کی ترقی کی تیز رفتاری میں معاون ثابت ہوا۔

آوارہ گرد کی ڈائری:

ابن انشا کا دوسرا سفر نامہ آوارہ گرد کی ڈائری ہے۔ یہ سفر نامہ 37 کالموں کا مجموعہ ہے جو کہ ابن انشا کے تین مہینوں کی سیاحت پر مشتمل ہے۔ اس میں 12 ممالک اور 27 شہروں کی رودادِ سفر اور تاثرات کو پیش کیا گیا ہے۔ ان میں پیرس، لندن، جرمنی، ہالینڈ، سویزرلینڈ، قاہرہ، لبنان اور شام وغیرہ شامل ہیں۔ ابن انشا کا یہ سفر یونیسکو کی جانب سے تھا۔ انہیں ستمبر 1967 میں یورپ اور مشرقی وسطیٰ میں کتابوں کی اشاعت و اشاعتی نظام کے مطالعے کے لیے فیلو شپ کے تحت بھیجا گیا. انہی تین مہینوں کی سیاحت پر مشتمل یہ سفرنامہ جولائی 1971 میں منظر عام پر آیا۔

اس سفرنامے میں مذکورہ ممالک کے مختلف گوشوں پر ابن انشا کے تاثرات موجود ہیں خصوصا پیرس کی روداد سفر میں وہاں کے تعلیمی نظام اور طلباء کی قدر و منزلت کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ سفر جرمنی کے تاثرات میں وہاں کی تعلیم اور تعلیمی نصاب کی مدح سرائی کی گئی ہے اور ساتھ ہی اس سلسلے میں ابن انشاء نے اپنے ملک کے نصاب پر طنز بھی کیا ہے۔ لندن کے سفری حالات لکھتے وقت وہاں کی معاشرتی برائی فحاشی عریانیت ابتذال اور جسم فروشی کا ذکر کیا گیا ہے۔ ہالینڈ کے سفر کے وقت ان کو وہاں کا رہن سہن گندگی اور دیگر گردوپیش کے مختلف منفی پہلو اپنے ملک سے مماثل نظر آئے۔ سویزرلینڈ کے باب میں وہاں کے بینک اور پیسہ جمع کرنے والوں کو طنز کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ویانا کے رودادِ سفر میں وہاں کے تاریخی آثار کا عکس پیش کیا گیا ہے۔ قاہرہ کے تذکرے میں دریائے نیل، اہرام مصر اور اس کے متعلقات مختلف تاریخی آثار اور چند تاریخی واقعات شامل ہیں لبنان و مصر کے باب میں قدیم مساجد، مدرسے اور محرابوں کا بیان ہے۔ اس کے علاوہ بھی ان ممالک کی روداد سفر میں مختلف تاثرات کو پیش کیا گیا ہے۔ لیکن یہاں تفصیل کی گنجائش نہیں مگر بغیر اس بات کا ذکر کئے آگے نہیں بڑھا جا سکتا کہ ان کے تمام تر مشاہدات و تاثرات کے بیان میں ان کا بے ساختہ اسلوب شوخی و ظرافت اور طنز و مزاح اہم رول ادا کرتا ہے جس سے قاری ایک خاص مسحوریت بھی محسوس کرتا ہے۔

دنیا گول ہے:

تیسرا سفر نامہ دنیا گول ہے کے نام سے ہے جو 1972 میں شائع ہوا۔ یہ سفرنامہ ضخامت کا حامل ہے. اس میں فلپائن، ملائیشیا، سنگاپور، امریکہ، بنگال، ہانگ کانگ، افغانستان، ایران، ترکی، جاپان، کوریا، ہوائی سان فرانسسکو اور پیرس کی روداد رقم ہے۔ ابن انشا نے اپنے مشاہدات کے پیش نظر اس سفرنامے میں بھی ان ممالک اور شہروں کی مختلف مثبت اور منفی پہلوؤں کو تحریری شکل دی ہے۔ مثلا فلپائن کے ذکر میں وہاں کے جرائم کا ذکر ہے، انڈونیشیا کے باب میں وہاں کی مہنگائی اور سیاسی حالات ہندو روایات و تہذیب اور مسلم تہذیب و معاشرت کا ذکر ہے، سنگاپور کے بارے میں ابن انشا نے وہاں کی آبادی کے حوالے سے گفتگو کی ہے، ان کے لکھنے کے مطابق وہاں اس وقت چینی 50 فیصد موجود تھے اور ساتھ ہی ہندوستانی، پاکستانی اور خصوصا سکھوں کی کثرت تھی. بنکاک کے تعلق سے انہوں نے وہاں کے بار، نائٹ کلب اور وہاں کی عریانیت پر طنز کیا ہے۔ افغانستان کی تعلیم اور تعلیمی معیار پر انہوں نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ اس وقت ایران کا ترقیاتی معاملے میں کافی پیچھے رہنا بھی ان کے لیے مایوس کن تھا۔ جاپان کی عمارتوں اور سڑکوں کا بیان، امریکہ کی عریانیت اور لندن کی مہنگائی وغیرہ کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر اس سفر نامے کو دیکھا جائے تو اکثر ممالک کی سیاسی، سماجی، معاشرتی، تہذیبی اور صنعتی پہلو نظر آتے ہیں۔

ابن بطوطہ کے تعاقب میں:

چوتھا سفر نامہ "ابن بطوطہ کے تعاقب میں" ہے۔ یہ جرمنی، لندن، جاپان، فلپائن، لنکا اور ایران کی روداد سفر پر محیط ہے۔ اس میں بھی ان ممالک کے چند معاشرتی، تہذیبی، تاریخی اور سیاسی عکس موجود ہیں۔

نگری نگری پھرا مسافر:

پانچواں سفرنامہ "نگری نگری پھرا مسافر" ہے۔ یہ سفرنامہ ابن انشاء کی وفات کے بعد ان کے بھائی محمود ریاض کی کوششوں سے منظر عام پر آیا۔ اس میں جاپان، روس اور لندن کی رودادِ سفر شامل ہے۔ انہوں نے جاپان کی ترقی اس کے پیچھے ان کی محنت و لگن اور ساتھ ہی وہاں کی معاشرت کا ذکر کیا ہے، تہذیب و تمدن کا نقشہ بھی کھینچا گیا ہے اور ساتھ ہی تاریخی پہلوؤں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ لندن کے ذکر میں انہوں نے وہاں کی سماجی، خرابیوں اور اقتصادی و معاشی بدحالی پر طنز کیا ہے۔ بہرحال ابن انشا کے سفر ناموں کے اس مختصر سے جائزے کے بعد اب مجموعی طور پران نکات کو پیش کرنا بھی مناسب ہوگا جس سے یہ سفرنامے بے حد مقبول ہوئے اور جس سے ابن انشا کی انفرادیت بھی قائم ہوتی ہے۔

مجموعی جائزہ:

ابن انشاء کی سیاحت اور ان کے سفر نامے سے متعلق ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ ابن انشا کے تمام ممالک کا سفر ایک خاص مقصد کے تحت تھا۔ ابن انشا یونیسکو کے اہم رکن تھے۔ یونیسکو کے تحت ہی ان کو مذکورہ ممالک کی سیاحت حاصل ہوئی۔ ابن انشا نے ان مقاصد کو بھی تحریری شکل دی ہے جہاں سفری تاثرات اور واردات قلبی کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔ یہی سفرنامہ نگاری کا اصول بھی ہے کہ سیاح اپنے مقصد کی بیان کے ساتھ گرد و نواح کے تمام تاثرات کو بھی صفحات کا حصہ بنائے۔ ابن انشا کے تمام سفرناموں میں یہ خصوصیت بدرجہ اتم موجود ہے۔

سفر نامہ نگاری میں یہ ضروری امر ہے کی سیاح کا مشاہدہ وسیع ہو اور تخیل کی بلند پروازی بھی ہو تبھی کامیاب سفر نامہ لکھنا ممکن ہوگا۔ ابن انشا کے سفر ناموں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کا مشاہدہ بے حد وسیع ہے۔ ہر ایک شے پر ابن انشا کی گہری نظر ہوتی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ابن انشا نے جن ممالک کا سفر کیا ان ممالک سے متعلق انہوں نے سفر سے پہلے ہی مختلف معلومات بذریعے مطالعہ کتب و اخبار حاصل کر لیا تھا۔ پھر جب ان ممالک کی سیاحت ہوتی ہے تو ابن انشا اپنے مشاہدات کو اپنے معلومات کے ساتھ جوڑ کر پیش کرتے ہیں اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ کسی بھی مقام پر شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی، بلکہ وہ دلائل و شواہد کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ابن انشا اپنے سفرناموں میں ایک منفرد ادیب کے ساتھ ساتھ ایک کامیاب مصور بھی نظر آتے ہیں۔ انہوں نے ان سیاحتی جگہوں کے مختلف باطنی و خارجی اشیاء کو ایک مصور کی نظر سے دیکھا اور سفرناموں میں ان جگہوں کی قدرتی و مصنوعی اشیاء کے ساتھ ان قوموں کے افکار و خیالات، نظریات، رسم و رواج، غرض یہ کہ ہر ایک شے کی خوبصورت تصویر نظر آتی ہے۔ مزید یہ کہ وہ جس شے یا واقعات کو موضوع بناتے ہیں اس کے تمام جزئیات کی پرت کھولتے چلے جاتے ہیں، جس سے اس کا نقشہ قاری کے سامنے گردش کرنے لگتا ہے۔

ابن انشا کے سفر ناموں کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ قاری جب ان سفرناموں کا مطالعہ کرتا ہے تو کہیں نہ کہیں اپنے آپ کو اس میں شامل پاتا ہے۔ ابن انشا نے جس مقام کا سفر کیا وہاں کے اشیاء و مناظر کو اس انداز سے پیش کیا ہے کہ قاری اسے پڑھتے وقت یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ وہ خود اس مقام پر موجود ہے اور ان تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہے، اس کے علاوہ ابن انشا بھی ان سفرناموں میں ایک حاضر راوی کے کردار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یوں قاری ان سفرناموں میں اپنے آپ کو ابن انشا کے ساتھ پاتا ہے اور یہ محسوس کرتا ہے کہ ان کے ساتھ وہ بھی ان جگہوں کا دیدار کر رہا ہے۔

ابن انشا کے سفرناموں میں تاریخی اسلوب تاریخی آثار اور تاریخی واقعات بھی رقم ہیں۔ لیکن ایسا نہیں کہ ان کے سفر نامے تاریخی واقعات سے ہی پر ہیں بلکہ اپنی رودادِ سفر پیش کرتے وقت اشارتاً  اور خصوصاً مختلف تاریخی پہلوؤں کو موضوع بناتے ہیں جس سے ماضی و حال دونوں پہلو سامنے آ جاتے ہیں۔

سیاہ جب سفر کرتا ہے تو وہ اپنے جسم کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی اور سماج سے جڑے تمام متعلقات کو ساتھ لے کر آگے بڑھتا ہے. یعنی ملکی و علاقائی تہذیب و تمدن، رسم و رواج، عادات و اطوار، رہن سہن اور افکار و خیالات وغیرہ بھی اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔ جب وہ نئی تہذیب اور نئے افراد سے ملتا ہے تو اس کا بلند تخیل اور قوی فکر غیر ارادی طور پر دونوں تہذیبوں کے مابین تقابل پیدا کرتا ہے۔ یہ تقابل اپنی یا اپنی تہذیب کی خامی اور خوبی دونوں پہلوؤں پر مشتمل ہوسکتا ہے۔ ابن انشا کے سفر نامے میں اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ انہوں نے غیر ملکی تہذیبوں کا بغور مشاہدہ کیا اور پھر ان کے باطنی و خارجی دونوں پہلوؤں پر اپنی تنقیدی نظر ڈالتے ہوئے اس سے نتیجہ بھی اخذ کیا ہے۔ پھر اسی مرحلے میں دو تہذیبوں کے مابین تقابل قائم ہوتا ہے۔ صرف ایک جگہ نہیں بلکہ ان کے تمام سفرناموں میں یہ تہذیبی و تمدنی تقابل بکثرت موجود ہیں۔ خصوصاً انہوں نے اپنے ملک کی پسماندگی اور مختلف خامیوں اور کمزوریوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے اس کے اسباب و علل کا سراغ لگا کر سیاست اور سیاسی مفاد پرستوں کی گرفت بھی کی ہے۔ اسی طرح جب ابن انشا دیگر ممالک کی ترقی کی تیز رفتاری پر نظر ڈالتے ہیں تو فوراً انہیں اپنا ملک مایوس کن نظر آنے لگتا ہے۔ ایسے مقام پر وہ تقابلی جائزہ لیتے ہیں اور اس ملک کے تاریخی صفحات کو بھی کھلوتے ہیں جہاں کچھ عرصہ پہلے عسکری طاقتوں نے ان ممالک کو بھی کھوکھلا کر رکھا تھا۔ لیکن عسکری طاقتوں کے چنگل سے نجات پاتے ہی ان مالک نے جس تیز رفتاری سے ترقی کی وہ ابن انشا کے لئے بہت حیران کن تھا۔ جب ابن انشا اسی نظر سے اپنے ملک کو دیکھتے ہیں تو انہیں مایوسی ہاتھ آتی ہے اور پھر یہیں سے تقابل شروع ہوتا ہے اور ابن انشا اس کے اسباب تلاش کرنے لگتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کی طنزومزاح کی گلکاریاں ایسے مقام پر بھی موجود ہیں۔ جہاں نہ تو نصیحت ہے اور نہ ہی ملامت بلکہ ابن انشا اپنی خوش طبعی اور خوش اسلوبی سے تمام مثبت اور منفی پہلوؤں کو رقم کرتے ہیں جسے پڑھ کر قاری دریائے فرحت و انبساط میں غوطہ لگانے لگتا ہے۔

انشا کے تمام سفر نامے علمی و معلوماتی صحیفے کا درجہ بھی رکھتے ہیں۔ لیکن ان کے سفرناموں میں ہوٹل اور غسل خانوں کا ذکر بکثرت ہونے کی وجہ سے ان کے سفر ناموں سے متعلق منفی نظریات بھی پیش کئے گئے کہ ان کے سفرنامے صرف ہوٹلوں اور غسل خانوں پر محیط ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ ابن انشاء بس ہوٹلوں اور اہل خانوں کا ہی تذکرہ کرتے ہیں۔ چونکہ ابن انشاء کو متعدد ہوٹلوں میں قیام کا موقع ملا اس لئے اس جگہ کی روداد لکھتے وقت انہوں نے سب سے پہلے تمہیدی گفتگو میں ان کا تذکرہ کرنا مناسب سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے سفرناموں کا مطالعہ شروع کرتے ہی قاری کے سامنے ہوٹل اور غسل خانے گردش کرنے لگتے ہیں۔ لیکن جلد ہی ابن انشاء کا علمی و معلوماتی حصہ بھی شروع ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ان کے ذاتی تاثرات و احساسات کے باب کا بھی آغاز ہوتا ہے۔ یہی کامیاب سفرنامہ کی پہچان بھی ہے کہ معلومات کی فراہمی میں ذاتی تاثرات بھی موجود ہوں۔ کیونکہ اصل مقصد تاثرات کو پیش کرنا ہے اگر تاثرات موجود نہیں ہیں، سفرنامے محض معلومات سے پر ہوں تو وہ تاریخ و جغرافیہ وغیرہ کے قریب پہنچ جائیں گے۔ ابن انشا کے سفر نامے اس کمی سے محفوظ ہیں۔ انہوں نے تقریباً اپنے تمام سیاحتی خطوں کے بارے میں معلومات کی فراہمی کے لیے اپنے تاثرات و احساسات کو مقدم رکھا ہے۔ دوسری سب سے بڑی خوبی ان کا مزاحیہ و طنزیہ اسلوب ہیں۔ غور کیا جائے تو آج ایسے ہی سفر نامے مقبولیت سے ہمکنار ہوتے ہیں جو اپنے اندر لطافت بھی رکھتے ہوں۔

ابن انشا کے سفر ناموں کی کامیابی کا راز دراصل طنزیہ و مزاحیہ اسلوب ہی ہے۔ ان کا یہ اسلوب اس قدر مقبول ہوا کہ کی مزاحیہ سفر نامہ نگاری کی فہرست میں وہ سب سے نمایاں نظر آنے لگے۔ انہوں نے اپنے تاثرات کو پیش کرنے میں اس اسلوب کا بہترین استعمال کیا ہے۔ ان کے تمام سفرناموں کی یہ خوبی ہے کہ ہر ایک فقروں میں بے ساختہ اور دلپذیر مزاح اور لطیف طنز کے نمونے موجود ہیں۔ ابن انشا کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ انہوں نے ہر طرح کے موضوعات کو پر لطف بنا کر پیش کیا ہے۔ خشک سے خشک موضوعات کے ایک ایک سطر میں طنزومزاح کے پھول بکھیرنا اور فرحت و انبساط کو جنم دینا ابن انشاء کی بڑی کامیابی ہے۔ 

ابن انشا کے سفر ناموں کی ایک خوبی یہ ہے کہ انہوں نے تمام سفرناموں میں زبان کی سادگی کو مقدم رکھا ہے۔ سلاست و روانی ہر جگہ برقرار ہے۔ جملوں کی آمد سے مزید دلچسپی پیدا ہوتی ہے۔ بے ساختگی و بے تکلفی کی کارفرمائی سے قاری اکتاہٹ اور بوجھل پن سے محفوظ رہتا ہے۔ شگفتگی اور شائستگی سے ان کی نثر میں کشش پیدا ہوتی ہے اور جابجا محاورے اور جملے اس میں مزید چار چاند لگاتے ہیں۔ اس طرح ابن انشا نے اپنے نئے اور منفرد اسلوب و آہنگ کے ذریعہ سفر نامہ نگاری کو ایک نئی روش پر گامزن کیا جو کی روایت سفرنامہ نگاری میں ایک خاص اور اہم اضافہ ہے۔ 

ڈاکٹر مطیع الرحمٰن

Post a Comment

0 Comments