درد کی غزل گوئی | Dard ki ghazal goi

خواجہ میر دردؔ کی غزل گوئی

خواجہ میر دردؔ اردو کے ایک عظیم صوفی شاعر تھے۔ ان کا شمار ایک ممتاز صوفی اور بزرگ میں بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تصوف کا رنگ ان کی شاعری میں کثرت سے نظر آتا ہے۔ انہوں نے روایتی طور پر تصوف کو موضوع نہیں بنایا بلکہ تصوف ان کے مزاج میں شامل تھا جس کا اثر ان کی شاعری پر پڑا۔ ایسے اشعار میں ان کے تجربات و مشاہدات ہوتے ہیں۔

دردؔ کی پیدائش 1720/21ء کو دہلی میں ہوئی اور وفات 1785کو ہوئی۔ ان کا اصل نام سید خواجہ میر تھا اور درد ان کا تخلص تھا۔ ان کے والد کا نام خواجہ میر عندلیبؔ تھا۔ ان کے والد بھی ایک درویش اور بزرگ تھے۔ اسی طرح ان کے والد فارسی کے شاعر بھی تھے۔ گویا یہ دونوں چیزیں یعنی تصوف اور شاعری ان کو وراثت میں ملی۔ دردؔ نے بچپن سے ہی درویشانہ اور صوفیانہ ماحول میں تربیت پائی۔ پھر آگے چل کر تصوف ان کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بن گیا۔ اسی طرح انہوں نے تصوف کے موضوع پر اردو اور فارسی میں کئی کتابیں بھی لکھیں۔

میر دردؔ کی غزلوں کی نمایاں انفرایت

موسیقیت:

دردؔ کو فن موسیقی سے کافی لگاؤ تھا۔ فن موسیقی کے بارے میں انہیں اچھی معلومات بھی حاصل تھیں۔ بلکہ اس کے وہ ایک ماہر استاد بھی تھے۔ بڑے بڑے موسیقار ان کے پاس اصلاح کے لیے آتے تھے۔ دردؔ کو موسیقی سے دلچسپی ہونے کی وجہ سے ان کی غزلوں میں ترنم پایا جاتا ہے۔ انہوں نے چھوٹی چھوٹی بحروں کا استعمال کرکے ترنم اور حسن پیدا کیا ہے۔

عشق کے موضوعات:

درد کی غزلوں میں عشق کے موضوعات کی کثرت ہے۔ انہوں نے عشق حقیقی کو موضوع تو بنایا ہی ہے ساتھ ہی انہوں نے عشق مجازی کو بھی موضوع بنایا ہے۔ ان کی غزلوں میں محبوب کے حسن اور اس کی ادا کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ انہوں نے محبت کے کئی رنگ کو پیش کیا ہے جن میں دلکشی اور رنگینی بھی ہے۔ اس عہد کی غزل  گوئی میں عشق و عاشقی کے مضامین کا استعمال زیادہ ہوتا تھا۔ دردؔ نے بھی اپنی شاعری میں عشق کو موضوع بنایا لیکن انہوں نے اپنے مخصوص رنگ میں اسے موضوع بنایا۔ انہوں نے حسن و عشق کو کئی انداز سے دیکھا اور اسے استعمال میں لاکر اس کی  دلکش تصویر پیش کی۔ دردؔ کے ان موضوعات کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ حد سے آگے نہیں بڑھتے بلکہ ہر جگہ توازن برقرار رکھتے ہیں۔ وہ محبوب کا سراپا بھی بیان کرتے ہیں، وصال کی بات بھی ہوتی ہے لیکن ہر جگہ پاکیزگی نظر آتی ہے۔

دردؔ کی غزلوں میں زیادہ تر عشق حقیقی پایا جاتا ہے۔ بندے کو خدا سے محبت ہوتی ہے۔ وہ اس سے ملنا چاہتا ہے، وہ خداکی ذات میں جذب ہونا چاہتا ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا ہے تو وہ محبوب حقیقی کی جدائی میں تڑپتا ہے۔ اس کی شاعری میں غم اور اداسی چھائی ہوتی ہے۔ دردؔ کی شاعری میں یہی کیفیت جابجا نظر آتی ہے۔ دردؔ کی بہت سے غزلیں ایسی ہیں جہاں عشق حقیقی اور مجازی دونوں مراد لیے جاسکتے ہیں۔

تصوف:

دردکا اصل میدان تصوف تھا۔ انہوں نےاپنی غزلوں میں خدا سے محبت کے ذکر کے ساتھ اخلاقی درس اور تصوف کی تعلیم بھی دی ہے۔ دردؔ فلسفہ وحدت الوجود کے قائل تھے۔ ان کی غزل میں اس مضمون کے اشعار جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔ وحدت الوجود میں جو فلسفہ پیش کیا گیا ہے وہ یہ کہ پوری دنیا خدا کے نور سے بنی ہے اور اسی کی کا  ایک جزو ہے۔ دردؔ کی غزلوں میں وحدت الوجود کا فلسفہ نظر آتا ہے۔ ان کی شاعری میں ایسے موضوعات کثرت سے موجود ہیں۔مثال کے طور پر:

جگ میں آکر ادھر ادھر دیکھا

تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا

درد و غم:

دردؔ کی غزلوں میں درد و غم کی کیفیت بھی موجود ہے۔ اور یہ درد و غم محبت نے ہی ان کے دل میں پیدا کردی تھی۔ پھر ان کا یہ درد انسانیت کا درد بن کر ابھرتا ہے۔یعنی دردؔ نے اپنے اشعار میں اپنے زمانے کے درد و کرب کو بھی موضوع بنایا ہے۔ ان کے یہاں سماجی، سیاسی انتشار اور روزگار جیسے مسائل بھی موجود ہیں۔ وہاں بھی انہوں نے اپنے سماج کے لوگوں کے درد وکرب کو پیش کیا ہے۔ دردؔ نے ایسے اشعار کو بہت ہی پر اثر بناکر پیش کیا ہے جو دلوں کو بہت جلد اپنی طرف مائل کر لیتے ہیں۔ مثلاً

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے

ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مرچلے

درد کی غزلوں کی فنی خصوصیات

درد کا لب و لہجہ اور الفاظ:

فنی اعتبار سے دیکھا جائے تو دردؔ کی غزلوں کی مقبولت میں ان کے انداز و اسلوب کا بھی اہم کردار ہے۔ دردؔ الفاظ اور تراکیب کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری میں نرم لب و لہجہ اختیار کیا ہے۔ اس خصوصیت سے ان کے اشعار میں مزید دلکشی پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً: 

کھل نہیں سکتی ہیں اب آنکھیں مری

جی میں یہ کس کا تصور آگیا

رمزیت و اشاریت :

دردؔ کی غزلوں کی ایک خصوصیت رمزیت و اشاریت بھی ہے۔ اس کے ذریعہ بھی دردؔ نے اپنی شاعری کو پر لطف بنایا ہے۔ اسے بعض اعتبار سے غزل کی جان بھی کہا جاتا ہے۔ دردؔ نے اپنی غزل میں جان پیدا کردی ہے۔ ایجاز کو غزلیہ شاعری میں اہمیت حاصل ہے۔ یعنی کم لفظوں میں زیادہ باتیں کہنا۔ یہ معمولی فن نہیں ہےبلکہ اس سے فن کار کی مہارت کا پتہ چلتا ہے۔ دردؔ نے اس کے ذریعہ اپنی غزلوں کی معنویت میں اضافہ کیا ہے۔اسی طرح درد کی غزلیں بھی مختصر ہوتی ہیں اور مختصربحروں کا استعمال بھی کرتے ہیں۔

تشبیہات و استعارات :

اسی طرح دیگر شعری وسائل کا استعمال کرکے درد نے اپنی غزل کو پر لطف اور خوبصورت بنایا ہے۔ خصوصاً تشبیہات و استعارات  کا استعمال ایسی ہنرمندی اور خوبصورتی سے کرتے ہیں کہ ہمارے سامنے اس کی ایک جیتی جاگتی تصویر نظر آنے لگتی ہے۔

صفائی و سادگی :

دردؔ کی غزلوں میں صفائی، سادگی، سلاست اور روانی بھی پائی جاتی ہے۔ درد سیدھی ،سچی باتوں کو مختصراً اور آسان لفظوں میں بیان کرتے ہیں۔ ان  کے ایسے سادہ الفاظ اپنے اندر کئی معنی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری دل کو چھو جاتی ہے۔


ڈاکٹر مطیع الرحمٰن

Post a Comment

0 Comments