علامہ شبلی نعمانی : مختصر تعارف | Allama Shibli Nomani : mukhtasar taaruf

 علامہ شبلی نعمانی : مختصر تعارف

علامہ شبلی نعمانی کی پیدائش ۱/جون ۱۸۵۷ کو ضلع اعظم گڑھ کے بندول نامی ایک گاؤں میں ہوئی۔ شبلی صرف ۵۷ سال کی عمر پاکر ۱۹۱۴ میں اعظم گڑھ میں انتقال کرگئے۔ اس مختصر سی عمر میں بھی انہوں نے اردو ادب کے مختلف گوشوں میں حصہ لے کر قیمتی اضافہ کیا۔

علامہ شبلی نے ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہی حاصل کی۔ اس کے بعد مدرسہ عربیہ اعظم گڑھ سے آگے کی تعلیم حاصل کی۔ مولانا فاروق چرّیا گوٹی ان کے سب سے مشہور استاد تھے۔ انہوں نے ہی ان کا لقب نعمانی رکھا تھا۔ شبلی نے پہلے اپنا تخلص تسنیم رکھا تھا۔

شبلی کو تعلیم حاصل کرنے  سے بے حد دلچسپی تھی۔ اس کے لیے انہوں نے سہارنپور، غازی پور، رام پور اور لکھنئو کا سفر بھی کیا۔ بعد میں اپنے والد شیخ حبیب اللہ  (جو ایک وکیل تھے) کے کہنے پر انہوں نے وکالت میں بھی کامیابی حاصل کی۔ چونکہ ان کو وکالت سے دلچسپی نہ تھی اس لیے انہوں نے وکالت کا پیشہ اختیار کرکے فوراً چھوڑدیا اور پھر سرکاری ملازم بنے لیکن جلد ہی انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔  ۱۸۸۲ میں اپنے چھوٹے بھائی سے ملنے علی گڑھ گئے۔ وہاں ان کو سرسید سے ملنے کا موقع ملا۔ سرسید کو ان کی علمی صلاحیت کا اندازہ ہوا  تو انہوں نے شبلی کو علی گڑھ کالج میں بحیثیت اسٹنٹ پروفیسرمقرر کرلیا۔ علی گڑھ میں ان کو علمی و ادبی ماحول ملا۔ اسی کے اثر سے انہوں نے کتابیں لکھنے کا آغاز کیا۔ جب سرسید احمد خان کا انتقال ہوگیا تو انہوں نے علی گڑھ کو ترک کر دیا۔ وہاں سےشبلی حیدرآباد گئےاور وہاں محکمہ تعلیم سے منسلک ہوئے۔ کچھ مدت تک وہاں رہنے کے بعد لکھنئو گئے اور وہاں ندوۃ العلما کے ناظم مقرر  کیے گیے۔ وہاں اپنی اہم خدمات پیش کرکے آخر میں اعظم گڑھ چلے گئے۔اعظم گڑھ میں انہوں نے ایک علمی ادارہ دار المصنفین کی بنیاد ڈالی۔

شبلی جہاں بھی رہے وہاں انہوں نے لکھنے کا سلسلہ قائم رکھا اور دیکھتے دیکھتے بہت سی کتابیں منظر عام پر آگئیں۔ ان میں مسلمانوں کی گذشتہ تعلیم، المامون، سیرت النعمان، سفرنامہ روم و مصر و شام، الفاروق، ، الغزالی، علم الکلام، الکلام، سوانح مولانا روم، موازنہ انیس و دبیر اور شعر العجم(پانچ جلدیں)، سیرت النبی، مقالات شبلی(۸ جلدیں)، دیوان شبلی، مکاتیب شبلی، خطوط شبلی، باقیات شبلی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ شبلی شاعر بھی تھے۔ دست گل، بوئے گل اور برگ گل ان کے شعری مجموعے ہیں۔ اور صبح امید، شہر آشوب اسلام، عدل جہانگیری اور مساوات اسلام ان کی اہم نظمیں ہیں۔

بہر حال ان کے انہی تمام ادبی خدمات کو دیکھتے ہوئے ان کو ہرفن مولا بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اردو ادب کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی۔ ان کی علمی و ادبی جہتیں بہت وسیع تھیں۔ شبلی اردو ادب میں سوانح نگار، مورخ، سیرت نگار، انشا پرداز، شارح، ناقد اور شاعر کی حیثیت سے بلند مقام رکھتے ہیں۔ جیساکہ ان کی مذکورہ ادبی خدمات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ان کی انہی علمی و ادبی خدمات کو دیکھتے ہوئے  حکومت کی طرف سے انہیں شمس العلما کا خطاب بھی عطا کیا گیا۔              

ڈاکٹر مطیع الرحمن

Post a Comment

0 Comments