حالی کی ادبی خدمات | Hali ki adabi khidmaat

حالی کی ادبی خدمات 

حالی کی ادبی خدمات  کاابتدائی دور : 

حالی کی ادبی خدمات کے حوالے سے گفتگو کریں تو پتہ چلتا کہ حالی نے اپنی ادبی خدمات کے ذریعے اردو   شعر گوئی اور نثر نگاری دونوں کو کافی متاثر کیا۔ خاص کر نثر نگاری میں ان کا بہت اہم حصہ رہا ہے۔ حالی کی نثر نگاری کا آغاز ۱۸۶۴ سے ۱۸۶۷ کے درمیان ہوا۔ ان کی کتابوں میں مولود شریف(اسے انہوں نے ۱۸۶۴ اور ۱۸۷۰ کے درمیانی  عرصہ میں لکھی لیکن ۱۹۲۳ میں ان کے بیٹے سجاد حسین کے ذریعہ پہلی بار شائع ہوئی۔)، اصول فارسی (۱۸۶۴ء)، تریاق مسموم(۱۸۶۸ء)، شواہد الالہام (۱۸۷۲ء)، مبادی علم جیولوجی اور مجالس النسا قابل ذکر ہیں۔ مجالس النسا کو انہوں نے ۱۸۷۴ء میں لکھی جس پر انہیں لارڈ بروک کی طرف سے چار سو کا انعام بھی ملا اور یہ کتاب لمبے عرصے تک اودھ اور پنجاب کے مدرسوں کے نصاب میں شامل رہی۔ یہ ایک اصلاحی اور اخلاقی کتاب ہے۔ اسے کافی مقبولیت ملی۔اسی طرح ان ابتدائی ایام میں انہوں نے سوانح حیات پر بھی ایک فارسی کی کتاب’’سوانح حکیم ناصر خسرو‘‘ لکھی۔حالی نے مضمون نگاری میں بھی حصہ لیا۔ ان کے ابتدائی مضامین کا مجموعہ ’’مضامین حالی‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔  یہ مجموعہ ۳۲ مضامین پر مشتمل ہے۔

حالی کی سوانح نگاری

حیات جاوید :

اس کے بعد حالی نے اردو سوانح نگاری کی طرف رخ کیا اور ۱۸۸۶ میں ’’حیات سعدی‘‘ لکھ کر اردومیں باقاعدہ سوانح نگاری کی بنیاد رکھی۔ یہ کتاب شیخ سعدی کی حیات اور کارنامے پر مشتمل ہے۔ حالی نے اسے دو حصوں میں بانٹا ہے۔ پہلے حصہ میں سعدی کے حالات زندگی کو رکھا ہے اور دوسرے حصے میں ان کے کلام کا جائزہ لیا ہے۔

حالی کی تنقید نگاری

مقدمہ شعر و شاعری :

پھر حالی تنقید نگاری کے میدان میں قدم رکھتے ہیں اور ۱۸۹۳ میں معروف و مقبول کتاب ’’مقدمہ شعر و شاعری‘‘ لکھ کر اردو میں باقاعدہ تنقید نگاری کی بنیاد قائم کرتے ہیں۔ حالی کی یہ بہت اہم کتاب ہے۔ اس میں انہوں نے اصول شاعری پر بحث کی ہے اور شعری اصناف کا بھی جائزہ لیا ہے۔ آل احمد سرور نے اس کتاب کو ’’اردو  شاعری کا پہلا مینی فیسٹو‘‘ کہا ہے۔

حالی کی سوانح نگاری کا دوسرا دور

یادگار غالب :

تنقید کے بعد حالی پھر سوانح نگاری کی طرف بڑھتے ہیں اور اپنے استاد مرزا اسد اللہ خاں غالب کی  سوانح حیات ’’یادگار غالب‘‘ کے نام سے لکھتے ہیں جس کی اشاعت ۱۸۹۷ میں ہوئی۔یادگار غالب بھی دو حصوں پر مشتمل ہے۔ اس کا پہلا حصہ غالب کی حیات اور ان سے متعلقات پر مشتمل  ہے اور دوسرے حصے میں حالی نے ان کے کلام کا انتخاب رکھا ہے۔

حیات جاوید :

مقدمہ شعر و شاعری کے بعد ہی حالی نے سرسید احمد خان کی حیات پر بھی لکھنا شروع کردیا تھا لیکن یہ سوانحی کتاب ’’حیات جاوید‘‘ کے نام سے ۱۹۰۱ میں شائع ہوئی۔اس میں حالی نے سرسید کی خامیوں کا ذکر نہیں کیا ہے اور ان کی تعریف زیادہ کی ہے۔ یہی وجہ ہے علامہ شبلی نعمانی نے اس کتاب کو مدلل مداحی اور کتاب المناقب بھی کہا ہے۔اس کے علاوہ ان کی نثری کتابوں میں مقالات حالی اور مکتوبات حالی بھی قابل ذکر ہیں جنہیں بعد میں مرتب کیا گیا۔

حالی کی شعری خدمات :

حالی نثر نگار کے ساتھ ایک اچھے شاعر بھی تھے۔ انہوں نے نظمیں، غزلیں، قصیدے اور مرثیے بھی لکھے۔مسدس مدو جزر اسلام  (مسدس حالی) ان کا بہترین شعری کارنامہ ہے۔ اسے انہوں نے سرسید کی فرمائش پر لکھی تھی جس کی اشاعت ۱۸۷۹ میں ہوئی۔اس کے علاوہ ان کے شعری مجموعے ’’مجموعہ نظم حالی ‘‘( ۱۸۹۰ ء)(پندرہ نظموں پر مشتمل)،  دیوان حالی (۱۸۹۳) اور جواہرات حالی قابل ذکر ہیں۔

حالی کی مشہور نظمیں :

حالی کی مشہور نظموں میں برکھارت، نشاط امید، حب وطن، مناظرہ رحم و انصاف، مناجات بیوہ، چپ کی داد، تعصب اور انصاف، اور قوم کی پاسداری وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اسی طرح انہوں نے پانچ مرثیے اور متعدد قصیدے بھی لکھے۔ ان کے علاوہ ان کی غزلیں کو بھی کافی مقبولیت ملی۔

ڈاکٹر مطیع الرحمٰن                                                                         

Post a Comment

0 Comments