حیات حالی : ایک مختصر جائزہ | Hayaat-e-Haali : ek mukhtasar jayza

حیات حالی : ایک مختصر جائزہ

حالی کی پیدائش:

مولانا الطاف حسین حالی جنہیں اردو کا برنارڈشا بھی کہا گیا ہے، ان کی پیدائش پانی پت میں ۱۸۳۷ کو ہوئی۔ان کےوالد کا نام خواجہ ایزد بخش تھا جن کا شجرہ نسب مشہور صحابی حضرت ایوب انصاریؓ سے ملتا ہے۔ حالی تقریباً ۹ سال کے تھے جب ان کے والد صاحب کا انتقال ہوا۔ کچھ مدت بعد ان کی والدہ کا بھی انتقال ہوگیا تھا۔ اس کے بعد ان کی پرورش ان کے بڑے بھائی خواجہ امداد حسین نے کی۔ امداد حسین کی کوئی اولاد نہ تھی اس لیے انہوں نے اور ان کی بیوی نے حالی کی تربیت ایک بیٹے کی طرح کی۔

حالی کا تعلیمی سفر :

ساڑھے چار سال کی عمر میں حالی کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا۔ شروع میں ان کو ایک مکتب میں داخل کیا گیا۔ وہاں انہوں نے قاری حافظ ممتاز حسین سے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کی اور انہوں نے کچھ ہی سالوں میں قرآن کو زبانی یاد بھی کرلیا۔ اس کے بعد پانی پت کے ہی ایک عالم جعفر علی سے انہوں نےفارسی زبان کی تعلیم بھی حاصل کی۔ یہیں سے حالی کے اندر فارسی زبان و ادب سے لگاؤ بھی پیدا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے حاجی ابراہیم حسین سے عربی کی تعلیم بھی پائی۔

حالی کی تعلیم (۱۷ سال کے بعد) :

حالی تقریباً ۱۷ سال کے ہوچکے تھے لیکن انہیں مکمل تعلیم نہ مل سکی تھی۔ حالانکہ ان کے اندر تعلیم کا جذبہ برقرار تھا۔ اسی دوران بڑے بھائی کے کہنے پر انہوں نے اپنےماموں کی بیٹی سے شادی بھی کرلی۔ شادی کے بعد بھی ان کے اندر علم حاصل کرنے کی پیاس موجود تھی۔انہوں نے دلی کے بارے میں سنا تھا کہ وہاں تعلیم کا اچھا ماحول ہے۔ انہوں نے بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں بھی سن رکھا تھا۔ اس لیے انہوں نے دل میں ارادہ کر لیا کہ ان کو دلی جانا ہے۔ گھر سے ان کو اجازت ملنا مشکل تھا۔ اس لیے جب ان کی بیوی مائکے چلی گئیں تو حالی رات کے وقت  چپکے سے دلی کے لیے نکل گئے۔ ہاتھ میں نہ تو پیسے تھے اور نہ ہی سواری کا کوئی ذریعہ۔ حالی پریشانیوں کا سامنا کرتے ہوئے دلی پہنچے۔ وہاں ان کا کوئی قیام گاہ نہ تھااور  نہ تو کوئی جاننے والا تھا۔ دلی کی جامع مسجد کے  پاس ایک مدرسہ ’’حسین بخش ‘‘ کا مدرسہ تھا ، حالی وہاں گئے اور وہیں فرش پر سوتے اور تعلیم حاصل کرتے۔ وہاں ان کے استاد مولوی نوازش علی تھے۔ ان کے ذریعہ ہی حالی کو بڑے بڑے علما وشعرا سے ملاقات کرنے کا موقع ملا۔

غالب اور حالی کے مراسم :

اسی دوران حالی کی ملاقات غالب سے بھی ہوئی۔ حالی غالب سے بے حد متاثر ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ان کی سوانح حیات ’’یادگار غالب‘‘ لکھی۔  بہرحال اس کے بعد حالی نے شعر گوئی کی طرف اپنا رجحان پیدا کیا اور غالب سے اپنے اشعار کی اصلاح بھی لیتے رہے۔شروع میں حالی نے اپنا تخلص ’’خستہ‘‘ رکھا لیکن غالب کے مشورے پر انہوں نے اپنا تخلص بدل کر ’’حالی‘‘ رکھ لیا۔

حالی کی گھر واپسی اور فکر معاش :

جب ان کے بڑے بھائی کو خبر ملی کہ حالی دلی میں ہیں تو وہ دلی گئے اور حالی کو اپنے ساتھ ۱۸۵۵ میں واپس پانی پت لے آئے۔ وہاں بھی انہوں نے تعلیم کا سلسلہ قائم رکھا۔ لیکن اب ان کو فکر معاش بھی ستانےلگی۔ اس لیے انہوں نے نوکری کے لیے حصار کا رخ کیا۔ وہاں کچھ مہینے انہوں نے ڈپٹی کمیشنر کے دفتر میں کام کیا۔ لیکن ۱۸۵۷ کے انقلاب کے دوران حالی نے پانی پت واپس ہوئے۔ راستے میں انہیں مختلف طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ لٹیروں نے ان کا سب کچھ لوٹ لیا تھا۔

بہر حال پانی پت پہنچ کر  انہوں نے پھر سے تعلیم کا سلسلہ قائم کیا اور چار سال تک وہیں مقیم رہے۔ اس دوران انہوں نے منطق، فلسفہ، حدیث اور تفسیر وغیرہ کا علم بھی حاصل کرلیا۔

حالی کا دوبارہ دلی جانا اور شیفتہ سے حالی کی ملاقات:

اس کے بعد حالی کو پھر سے فکر معاش نے آگھیرا۔ جب دلی کی حالت میں بہتری آئی تو انہوں نے دوبارہ دلی کا رخ کیا۔ لیکن وہاں ان کو کوئی نوکری نہ مل سکی۔ اسی دوران ان کی ملاقات نواب مصطفی خان شیفتہ سے ہوئی۔ شیفتہ جہانگیرآباد (بلند شہر) کے نواب تھے۔ شیفتہ شاعر بھی تھے۔ جب شیفتہ سے حالی کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے حالی کی قابلیت اور صلاحیت کا اندازہ کرلیا۔ اس کی وجہ سے انہوں نے حالی کو اپنے ساتھ رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ حالی ان کے ساتھ تقریباً آٹھ سال تک رہے۔ وہاں سے حالی کبھی کبھی غالب سے ملنے اور اپنے کلام کی اصلاح کے لیے دلی بھی جایا کرتے تھے۔۱۸۶۹ میں جب غالب کا انتقال ہوا تو حالی بہت غمزدہ ہوئے۔ انہوں نے غالب پر ایک مرثیہ بھی لکھا۔

حالی کا حال غالب کے انتقال کے بعد:

غالب کے انتقال کرجانے کا دکھ ابھی برقرار ہی تھا کہ اسی سال شیفتہ کا بھی انتقال ہوگیا۔ اس سے انہیں اور زیادہ صدمہ پہنچا اور انہوں دلی کا رخ کیا۔حالی ۱۸۷۲ تک دلی میں رہے۔ اس کے بعد ان کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے اسی سال پنجاب گورنمنٹ بک ڈپو (لاہور) نے انہیں ملازمت عطا کی۔ وہاں ان کا کام تھا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کی ہوئی کتابوں کی تصحیح اور نظر ثانی کرنا۔ وہاں حالی کی انگریزی بھی اچھی ہوگئی۔ حالی اس سے چار سال تک جڑے رہے۔

اس کے بعد حالی کی شاعری میں بھی انقلاب آیا۔ ۱۸۷۴ کے انجمن پنجاب میں بھی انہوں نے حصہ لیا اور کئی مشہور نظمیں لکھیں۔ اسی دوران رسالہ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ کے ذریعہ سرسید سے ان کی جان پہچان بھی ہوئی( اور قیام دلی کے دوران سرسید سے ان کی ملاقات بھی ہوئی)۔  لاہور میں  انہوں نے عورتوں کے لیے ایک نثری کتاب ’’مجالس النسا‘‘ لکھی جس پر انہیں چار سو روپے کا انعام بھی ملا۔

۱۸۷۴ میں حالی پھر سے دلی گئے اور وہاں کے اینگلو عربک اسکول سے وابستہ ہوئے۔ حالی اس اسکول سے تقریباً ۱۴ سال تک جڑے رہے۔ جب نواب آسماں جاہ وزیر اعظم حیدرآباد ی سے سرسید نے حالی کے بارے میں بتایا تو انہوں نے حالی کے لیے ۷۵ روپے ماہوار وظیفہ بھی مقرر کیا۔ کچھ عرصے بعد حالی دلی چھوڑ کر بیٹے کے گھر چلے گئے اور وہیں مقیم رہے۔ آخری عمر میں حالی بیمار رہنے لگے اور ۱۹۱۴ کو پانی پت میں ان کا انتقال ہوگیا۔

ڈاکٹر مطیع الرحمٰن                                                                          

Post a Comment

0 Comments