پطرس بخاری کی مزاح نگاری | Patras bukhari ki mazah nigari

پطرس بخاری کی مزاح نگاری

مختصر تعارف :    پطرس بخاری اردو ادب کے معروف و مشہور افسانہ نگار، مضمون نگار، انشائیہ نگار ، مترجم اور مزاح نگار کی حیثیت سے جانے جاتے  ہیں۔ پطرس بخاری کو مزاح نگاری میں کافی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی۔ پطرس بخاری کا نام سید احمد شاہ تھا لیکن پطرس بخاری کے نام سے مشہور ہوئے۔ ان کی پیدائش ۱۸۹۸ میں ہوئی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم گھر سے ہی حاصل کی۔ پھر پطرس اسکول گئے اور اسکول کی تعلیم مکمل کرکے انہوں نے  گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔اس کے بعد مزید تعلیم کے لیے انگلستان بھی گئے۔ تعلیم کے بعد گورنمنٹ کالج میں انگریزی کے لکچرر مقرر کیے گئے اور بعد میں پرنسپل بھی بن گئے۔ پطرس بخاری کا انتقال نیویارک میں ۵ دسمبر ۱۹۸۵ میں ہوا۔

پطرس بخاری کی مزاح نگاری :

مزاحیہ اسلوب :

                پطرس بخاری اردو طنز و مزاح میں ایک نئے اسلوب کے خالق مانے جاتے ہیں۔ پطرس بخاری اردو کے بہترین اور ایک بڑے مزاح نگار کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ ان کا انداز بیان سادہ ، سلیس اور آسان ہے۔ ان کی تحریروں کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے  ہم کتاب نہیں پڑھ رہے ہیں بلکہ کسی سے بات کر رہے ہیں۔ اسی طرح ان کی تحریر پڑھنے والا اس میں اس طرح ڈوب جاتا ہے کہ اسے لگنے لگتا ہے جیسے پطرس بخاری ان سے ہی گفتگو کر رہے ہیں۔ یہی ان کا اسلوب ان کو دوسرے ادیبوں سے منفرد کرتا ہے۔ اور یہی پطرس کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ انہوں نے اپنی تحریروں میں مزاح نگاری کا جو اسلوب اپنایا ہے وہ قابل داد ہے۔

لفظوں کا انتخاب :

پطرس بخاری نے واقعات کے بیان میں لفظوں کے انتخاب اور جملوں کی بنت  اتنی  خوبصورتی سے کی ہے کہ مزاح سے مل کر ان کی تحریر اور خوبصورت اور دلکش بن گئی ہے۔قاری ان کی تحریروں کو جیسے جیسے پڑھتا ہے ویسے ویسے فلم کی طرح سب کچھ اس کے سامنے چلنے لگتا ہے۔ یہ پطرس کی ایک بڑی خوبی تھی۔

محاورات، کہاوتیں اور استعارے :

پطرس بخاری کی تحریروں کی ایک خوبی یہ ہے انہوں نے محاوروں اور کہاوتوں کے ذریعہ بھی مزاح پیدا کیا ہے۔ اسی طرح ان کی تحریروں میں جگہ جگہ استعارات بھی نظر آئیں گے ۔ اس کے ذریعہ بھی انہوں نے واقعے کی تصویر اور مزاحیہ رنگ کو دلکش بنایا ہے۔

پطرس کے کردار :

پطرس کے کرداروں کی بات کریں تو پتہ چلتا ہے ان کے کردار ہمارے آس پاس کے لوگ ہیں۔ انہوں نے معاشرے اور انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو موضوع بنایا ہے۔ پطرس نے انہی کرداروں کو منتخب کیا ہے۔وہ کردار بھی ان کے مزاحیہ اسلوب کو بلندی عطا کرتے ہیں۔

پطرس بخاری کے مضامین :

پطرس بخاری کے مضامین کی بات کی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں ان  کا مزاح بالکل خالص ہے۔ یعنی انہوں نے اپنے مضامین میں خالص مزاح کو جگہ دی ہے۔ وہاں کسی کا مذاق اڑانا یا کسی پر کیچڑ اچھالنا یا کسی پر طنز کرنا ان کا مقصد نہیں بلکہ ان تمام چیزوں سے انہوں نے خود کو بچائے رکھا اور صاف ستھرااور خالص مزاح کا نمونہ پیش کیا۔

پطرس کے مضامین کی ایک خوبی یہ ہے کہ انہوں نے اپنی بات کو اور بڑے بڑے موضوع کو بہت اختصار کے ساتھ  بہت ہی دلکش انداز میں پیش کیا ہے۔بہر حال ان تمام خوبیوں کی وجہ سے پطرس بخاری کو مزاح نگاری میں شہرت ملی اور خاص کر مضامین کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا۔ کیونکہ ان کی ان تحریروں میں مزاح کا رنگ بہت غالب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں اکتاہٹ نہیں بلکہ قاری کے لیے بھر پور لطف کا سامان موجود ہے۔

ڈاکٹر مطیع الرحمٰن                                                                          

Post a Comment

0 Comments