ذوق کی قصیدہ نگاری | Zauq ki qasida nigari

ذوق کی قصیدہ نگاری 

ذوق کی قصیدہ نگاری پر بات کریں تو پتہ چلتا ہے کہ اردو قصیدہ نگاری میں سودا کے بعد دوسرا سب سے بڑا نام ذوق کا ہے۔اس مضمون میں ذوق کی قصیدہ نگاری کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے۔ 

شیخ محمد ابراہیم ذوق کا تعارف :

 ذوق کا نام شیخ محمد ابراہیم تھا اور ذوق ان کا تخلص تھا۔ ذوق کو خاقانی ہند کاخطاب بھی ملا تھا۔ اسی طرح انہیں خان بہادر کا بھی خطاب ملا۔ ذوق کی پیدائش ۱۷۸۹ کو دہلی میں ہوئی۔ ذوق، غالب اور مومن تینوں ہم عصر تھے۔ ذوق کا تعلق دلی کے دربار شاہی سے تھا۔ یہی نہیں بلکہ بہادر شاہ ظفر کے دربار سے آخر تک جڑے رہے۔ شروع میں بہادر شاہ ظفر جب ولی عہد تھے تو ذوق ان کے استاد تھے۔ ذوق کو  چار روپے مہینے تنخواہ ملتی تھی۔ اس وقت ذوق محض بیس سال کے تھے۔ بہادر شاہ ظفر نے بعد میں بھی انہیں اپنا استاد بنا ئے رکھا اور اپنے دربار سے ہمشہ ان کو وابستہ رکھا۔جب  ذوق نے اپنی جوانی میں ہی ایک قصیدہ لکھ کر بادشاہ اکبر شاہ ثانی کے سامنے پیش کیا  تو انہوں نے ہی ان کو ’’خاقانی ہند‘‘  کا خطاب عطا کیا۔اس وقت ذوق کی عمر محض ۱۹ سال تھی۔ اس قصیدہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ۱۸ اشعار ہیں جو کہ ۱۸ زبانوں میں ہیں۔ بہادر شاہ ظفر نے جب بادشاہت کی کرسی سنبھالی تو انہوں نے ان کی ہمیشہ عزت کی ۔ یہاں تک کہ ان کی تنخواہ چار روپے سے بڑھاکر سو روپے کردی تھی۔ساتھ ہی ان کو ملک الشعرا کا تاج پہنایا۔ ذوق کا انتقال ۱۸۵۴ میں ہوا۔

ذوق کی تعلیم اور شعر گوئی :

ذوق کو بچپن سے ہی تعلیم اور شعر و شاعری سے لگاؤ تھا۔ انہوں نے مختلف استادوں سے تعلیم حاصل کی۔ ان میں حافظ غلام رسول، عبد العزیز دہلوی، حافظ غلام رسول  اور شاہ نصیر دہلوی قابل ذکر ہیں۔ غلام رسول بھی ایک شاعر تھے اور ان کا تخلص شوق تھا۔ ذوق نے کم عمری میں ہی شاعری شروع کردی تھی اورغلام رسول سے اصلاح لیا کرتے تھے۔ ذوق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے استاد غلام رسول شوق کی مناسبت سے ہی اپنا تخلص ذوق رکھا تھا۔اس کے بعد انہوں نے جب شاہ نصیر دہلوی کی شاگردی اختیار کی تو ان کو شاعری سے مزید لگاؤ ہوا۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے استاد شاہ نصیر کی شاعری کے رنگ کو اختیار کرنا شروع کردیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ذوق کی شاعری میں داخلیت کی کمی ہے۔

ذوق کی قصیدہ نگاری

اردو شاعری میں ذوق کا اصل میدان قصیدہ نگاری ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے سودا کی بھی پیروی کی۔ لیکن سودا کا مقام اول تھا اور ذوق اس مقام تک نہ پہنچ سکے۔ لیکن دوسرا مقام حاصل کرنے میں انہوں نے کامیابی حاصل کی۔ذوق نے بہت سے قصیدے لکھے۔ ان کے قصیدوں کی تعداد تقریباً ۲۷ ہے۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بہت سے قصیدے لکھے  مگر ۱۸۵۷ کی پہلی جنگ آزادی میں ان کے گھر میں آگ لگ گئی تھی جس کی وجہ سے ان کے بہت سے قصیدے جل گئے تھے۔ بہر حال ان کے جتنے قصیدے موجود ہیں اتنے ہی ان کی قابلیت کی دلیل ہیں۔

ذوق کا ایک دیوان ہے جو  ’’دیوان ذوق‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اس میں ان کی غزلیں اور قصیدے شامل ہیں۔ یعنی ذوق نے غزلیں بھی کہیں لیکن ان کا اصل میدان قصیدہ نگاری کا تھا۔ ان کے قصیدے بادشاہوں کی تعریف میں ہیں۔

ذوق کی قصیدہ نگاری کی خصوصیات

ذوق کے قصیدوں میں جدت :

ذوق کی قصیدہ نگاری کی سب سے خصوصیت یہ ہے انہوں نے جتنے قصیدے لکھے ان میں جدت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ دیکھا جائے توان  کے ہرقصیدوں میں الگ رنگ نظر آتا ہے اور ذوق ہر قصیدے میں الگ بات پیدا کرتے ہیں۔ان کے قصیدوں کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔

ذوق کے قصیدوں میں علمیت :

ذوق کی خصوصیت یہ تھی کہ ان کو مختلف علوم سے واقفیت تھی۔ انہیں  طب، نجوم، ہیئت، فلسفہ، تاریخ،  منطق، سوسیقی، تصوف، تفسیر، حدیث اور فقہ وغیرہ کا بھی علم حاصل تھا۔  اس کا اثر ان کے قصیدوں میں صاف طور پر نظر آتا ہے۔

ذوق کے قصیدوں کی زبان :

ذوق عربی اور فارسی بھی جانتے تھے۔ اس کا بھی اثر ان کی شاعری پر مرتب ہوا اور انہوں نے اپنے قصیدوں میں بھاری بھرکم الفاظ  کا استعمال کیا ہے۔ ان کو  زبان پر پکڑ حاصل تھی اس لیے ان کے یہاں مشکل الفاظ اور قافیے بھی نظر آتے ہیں۔ یہ ان کے یہاں کوئی خامی نہیں بلکہ خوبی تھی۔ انہوں نے اس کو بہت خوبی سے استعمال میں لایا ہے۔ایسا نہیں انہوں نے صرف مشکل زبان کا ہی استعمال کیا ہے بلکہ بہت سے مقام پر عام بول چال اور آسان زبان کو بھی انہوں نے استعمال میں لایا ہے۔

محاورات اور کہاوتیں:

ذوق کی قصیدہ نگاری کی ایک خوبی یہ ہے کہ انہوں نے محاوروں اور بعض مقام پر کہاوتوں کو بھی بہت خوبصورتی سے استعمال میں لایا ہے۔ اس کے ذریعہ ذوق اپنی شاعری کو حسن عطا کرتے ہیں۔

ذوق کی قصیدہ نگاری کا فنی مطالعہ

ذوق کے قصیدوں میں تشبیب :

فنی اعتبار سے دیکھا جائے تو ذوق ایک کامیاب قصیدہ نگار نظر آتے ہیں۔ انہوں نے قصیدہ کے اجزائے ترکیبی کو بہتر طریقے سے استعمال میں لایا ہے۔ قصیدے کا آغاز تشبیب سے ہوتا ہے جسے قصیدہ کی جان بھی کہتے ہیں۔ ذوق نے اس پہلو پر پورا زور دیا ہے۔ ذوق کے قصیدوں میں یہ جزو سب سے دلکش نظر آتا ہے۔ ان کی تشبیبوں کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان کو علم و فن پر کافی مہارت حاصل تھی۔ ذوق نے اپنی تشبیب میں مختلف موضوعات کو شامل کیا ہے۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ جزو ہر جگہ الگ اور منفرد نظر آتا ہے۔

ذوق کے قصیدوں میں گریز :

قصیدے کا دوسرا جزو گریز ہے۔ اس کے ذریعہ قصیدہ نگار تشبیب سے مدح کی طرف لوٹتا ہے۔ یعنی گریز کا جزو  تشبیب کو قصیدے کے تیسرےجزو مدح سے جوڑتا ہے۔ذوق کی قصیدہ نگاری میں گریز پر بات کی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ذوق نے گریز میں بھی اپنے فن کا کمال بخوبی دکھایا ہے۔ بعض گریز کو انہوں نے بہت سادہ انداز میں پیش کیا ہے۔ کچھ گریز ایسے بھی ہیں جہاں کچھ کمیاں تو ہیں لیکن ان کی خوبیوں کے سایے میں کمیاں چھپ جاتی ہیں۔

ذوق کے قصیدوں میں مدح :

قصیدے کا تیسرا اور سب سے اہم  جزو مدح ہے ۔ میرے نزدیک قصیدے کا دوسرا نام مدح ہے۔ اس میں شاعر کسی کی کھل کر تعریف کرتا ہے۔ شاعر ممدوح (جس کی تعریف کی جائے)کے ہر پہلو پر نظر رکھتا ہے اور پھر اس کی تعریف کرتا ہے۔ ذوق اس سلسلے میں بے حد کامیاب نظر آتے ہیں۔ انہوں نے بادشاہوں کی تعریف میں اپنی پوری صلاحیت اور قابلیت کو صرف کردیا ہے۔ ذوق نے  ممدوح کی ذات کی تعریف کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے تمام لوازمات  (مثلا: کپڑے، جوتے، ہتھیار، ہاتھی، گھوڑے وغیرہ) اور دیگر خوبیوں کی بھی مدح سرائی کی ہے۔ذوق کی مدح کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں مبالغہ کا پہلو غالب ہے۔ مبالغہ قصیدے میں بہتر بھی مانا جاتا ہے۔

ذوق کے قصیدوں میں مدعا او ردعا :

مدعا اور دعا قصیدے کے آخری جزو ہیں۔ یہ حصہ بہت مختصر ہوتا ہے۔ ذوق کے یہاں اس پہلو کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے اسے روایتی انداز میں اپنایا ہے۔ خاص کر ان کے قصیدوں میں مدعا کو زیادہ اہمیت حاصل نہیں ہے۔ اور ذوق  نے اپنے قصیدوں کو دعا پر ختم کیا ہے۔

بہر حال اس طرح ذوق نے قصیدہ نگاری میں حصہ لے کر اسے بلندی عطا کی اور اس کی روایت میں اہم اضافہ کیا۔

ڈاکٹر مطیع الرحمٰن                                                                          

Post a Comment

0 Comments