Allama Iqbal ki nazm nigari | علامہ اقبال کی نظم نگاری

علامہ اقبال کی نظم نگاری

علامہ اقبال کا شمار اردو کے عظیم نظم نگاروں میں ہوتا ہے۔اقبال نے اردو نظم کو نئی بلندی عطا کی اور اسےنیا لب و لہجہ دیا۔ اقبال  کی نظموں میں فکر و فلسفہ موجود ہے۔ اقبال  نے اپنی نظموں کو بامقصد بنایا۔ اس کے ذریعے اقبال نے انسانی روح و قلب کو متحرک کیا۔ بانگ درا(۱۹۲۴)، بال جبریل (۱۹۳۴) اور ارمغان حجاز (۱۹۳۸) ان کے لازوال شعری مجموعے ہیں۔

اقبال کی نظموں میں قومیت اور وطنیت:

علامہ اقبال کی نظموں میں ملک اورقوم کا درد صاف طور پر نظر آتا ہے۔ خاص کر ان کی ابتدائی دور کی نظموں میں قوم اور وطن سے ان کی محبت دیکھی جاسکتی ہے۔جب اقبال نے شعر گوئی کا آغاز کیا تو ملک ہند مختلف مسائل سے دوچار تھا۔ انگریزوں کے ظلم و ستم سے ملک اور قوم کے اندر اداسی، مایوسی، لاچارگی اور بے بسی کی سی کیفیت طاری ہوگئی تھی۔ علامہ اقبال نے لوگوں کو ان کیفیات سے نکالنے کے لیے قومی اور وطنی نظمیں لکھیں۔

اقبال کی نظموں میں ملت کا درد:

علامہ اقبال نے مسلمانوں کی بدحالی دیکھی تو ان کو بھی اپنی نظموں کا حصہ بنایا۔ انہوں نے مسلمانوں کو جگانے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں انھوں نے عرفان ذات اور خودی کا فلسفہ پیش کیا۔ اس فلسفے کو اقبال کی شاعری میں بنیادی اہمیت حاصل ہے ان کے زیادہ تر اشعار فلسفۂ خودی کے موضوعات پر مبنی ہیں۔ اس طرح انھوں نے مسلمانوں کے ذہن کی آبیاری کی اور انھیں عروج کا راستہ دکھایا۔

علامہ اقبال کو یہ احساس تھا کہ اگر لوگوں میں خودی کا جذبہ پیدا ہوجائے اور لوگ اس فلسفے پر عمل کریں تو انھیں عظمت اور بلندی ضرور مل سکتی ہے۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

اقبال کی نظموں میں معاشرتی و سیاسی مسائل:

علامہ اقبال کی نظموں میں اس وقت کے مختلف معاشرتی وسیاسی مسائل بھی موجود ہیں۔ انھوں نے اس وقت کے مختلف معاشرتی مسائل کی عکاسی کی ہے۔ اقبال نے معاشرہ و سماج کی اصلاح پر متعدد نظمیں لکھی ہیں۔ ہندوستان پر انگریزوں کے منفی اثرات کو انھوں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یہی نہیں بلکہ انھوں نے ظلم و ستم اور ناانصافی کے خلاف بھی آواز بلند کی ہے۔ اسی طرح علامہ اقبال  نے عورتوں کے حقوق کے لیے بھی آواز اٹھائی ہے۔ اقبال کو مزدوروں ، کسانوں اور غریبوں سے بھی ہمدردی تھی انھوں نے ان کو بھی اپنی نظموں میں شامل کیا ہے اور اپنی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے  سرمایہ داروں کے ظلم و ستم کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

اقبال کی نظموں کا اسلوبیاتی مطالعہ

اقبال کا مکالماتی انداز:

علامہ اقبال جہاں موضوعاتی اعتبار سے دیگر شاعروں سے منفردنظر آتے ہیں وہیں ان کا جداگانہ اسلوب بھی ان کو دوسرے شاعروں سے الگ کرتاہے۔ نظم نگاری میں اقبال  نے جو اسلوب اختیار کیا وہ بالکل جداگانہ اور پراثر ہے۔ خاص کر ان کا مکالماتی اسلوب بہت پر اثر ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنے خیالات کو پیش کرنے میں یا اپنا پیغام لوگوں تک پہنچانے میں مکالمے کا سہارالیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اقبال نے تمثیل کے ذریعے بھی اپنے مکالماتی اسلوب کو اثردار بنایا ہے۔ اقبال کی نظموں کے ایسے کردار جو مکالمہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ان میں شمع، پروانہ، سورج، چاند، ستارہ،گلہری، پہاڑ، مکھی، مکڑی، عقل اور دل وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ان کے ذریعے اقبال نے اپنی نظموں میں تنوع اور جدت پیدا کی ہے۔

اقبال کے شخصی کردار:

علامہ اقبال کی نظم نگاری کا ایک خاص اسلوب یہ ہے انھوں نےمختلف شخصی کردار تخلیق کرکے ان کی زبانی اپنا پیغام لوگوں تک پہنچایا ہے۔مثلاً خضر علیہ السلام، سرسید، لینن وغیرہ کی زبان سے اقبال نے اپنا پیغام لوگوں تک پہنچایا ہے جہاں ان کا اسلوب بے حد پر اثر ہے۔

اقبال کے اسلوب  میں سادگی:

علامہ اقبال کے اسلوب میں سادگی ، سلاست اور روانی بھی موجود ہے۔ ان کے الفاظ بھی سادہ اور شیریں ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے لفظوں کے ذریعے مناظر فطرت، حالات اور دیگر پہلوؤں کی عمدہ تصویر کشی کی ہے۔ یعنی ان کے یہاں پیکر تراشی کے عمدہ نمونے بھی موجود ہیں۔

اقبال کی نظموں میں شعری وسائل:

علامہ اقبال نے اپنی نظموں میں شعری وسائل کا استعمال بھی بخوبی کیا ہے۔ خصوصاً تشبیہات و استعارات کے ذریعے اقبال اپنی نظموں کو حسن عطا کرتے ہیں۔ مروجہ تشبیہات و استعارات کے استعمال کے علاوہ انھوں نے بہت سی تشبیہات و استعارات کو خود سے وضع بھی کیا ہے جن میں الگ حسن موجود ہے۔

اقبال کی نظموں میں تلمیحات:

علامہ اقبال نے اپنی نظموں میں تلمیحات کا استعمال بھی کثرت سے کیا ہے۔ اس کے ذریعے بھی انھوں نے اپنی نظموں کو خوبصورت بنایا ہے۔ ان تلمیحات کے پیچھے ان کا پر اثر پیغام بھی موجود ہوتا ہے۔

اقبال کی علامت نگاری:

علامہ اقبال کی نظموں کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے علامت نگاری کا بھی سہارا لیا ہے۔ ان علامتوں کے ذریعے بھی علامہ اقبال اپنا پیغام لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ یہ علامتیں بھی بے حد پر اثر ہوتی ہیں۔ اقبال کی علامتوں میں ابلیس، شاہین، پروانہ، موج اور ساحل وغیرہ قابل  ذکر ہیں۔بہر حال اس طرح علامہ اقبال نے موضوعاتی اور اسلوبیاتی دونوں اعتبار سے اردو نظم کو بلندی عطا کی ۔

ڈاکٹر مطیع الرحمٰن                                                                          

Post a Comment

0 Comments