Faiz Ahmad Faiz ki ghazal goi | फैज़ अहमद फैज़ की ग़ज़ल गोई | فیض احمد فیض کی غزل گوئی

فیض احمد فیض  کی غزل گوئی

فیض احمد فیض بیسویں صدی کے ایک عظیم شاعر تھے۔ فیض کو  اپنی زندگی میں ہی بے پناہ شہرت اور مقبولیت مل چکی تھی۔فیض کی شاعری کی دنیا نظم اور غزل دونوں پر محیط ہے۔ دونوں ہی میدانوں میں انھوں نے کافی شہرت حاصل کی۔  یہ ان کی خاص انفرادیت تھی۔ کیونکہ اکثر ایسا ہوتاہےکہ یا تو کسی شاعر کی نظمیں زیادہ مشہور ہوتی ہیں یا تو غزلیں۔ فیض دونوں اصناف میں مقبول ہوئے۔

فیض احمد فیض ۱۹۱۱ کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے عربی اور انگلش میں ایم۔اے کیا اور ایم۔اے۔او کالج امرتسر میں پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ فیض کی وفات ۱۹۸۴ کو  لاہور میں ہوئی۔

فیض کوبچپن سے ہی شعر و شاعری میں کافی دلچسپی تھی۔ ا ن کی دلچسپی کا ہی نتیجہ ہے کہ انھوں نے طالب علمی کے زمانے میں ہی شعر گوئی شروع کردی تھی اور ان کے اشعار کالج کےمیگزین ’’راوی‘‘ میں شائع ہوتے تھے۔

فیض کے ابتدائی کلام کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ شروع میں ان کے  یہاں روایتی انداز ملتا ہے۔ یعنی فیض کی ابتدائی  شاعری کے موضوعات عشق مجازی ہوتے تھے۔ ان کی غزلوں میں محبت کے موضوعات، ہجر و وصال کی باتیں اور محبوب کا حسن، اس کی ادا اور جفا سب کچھ موجود ہے۔ ان موضوعات کو انھوں نے بڑی خوبصورتی سے استعمال میں لایا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے دلکش انداز، نرم نازک الفاظ اور نغمگی سے اپنی غزلوں کو حسن عطا کیا ہے۔

فیض کی ایسی غزلوں کی ایک خصوصیت یہ ہے انھوں نے تہذیب و تمدن کی بہتر عکاسی کی ہے۔ انھوں نے اپنی غزلوں میں ہندوستانی تہذیب کے مختلف پہلوؤں کو پیش کیا ہے۔

دیکھا جائے تو فیض نے ہر طرح کی شاعری کی لیکن ان کی پہچان ترقی پسند شاعر کی حیثیت  سے زیادہ ہے۔عشق کے موضوعات پر شاعری کرنے کے بعد انھوں نے کچھ مدت کے لیے شاعری ترک کردی تھی۔ پھر جب ترقی پسند تحریک کا آغاز ہوا اور فیض اس تحریک سےمنسلک ہوئے تو انھوں نے دوبارہ شاعری شروع کی اورپھر  انھوں نے مظلوموں، مزدوروں اور کسانوں کے حق میں شاعری شروع کی۔ انھوں نے اپنی غزلوں میں سماج کی بدحالی، ناانصافی، ظلم و ستم، سرمایہ دارانہ نظام اور غلط پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کی۔اسی طرح انھوں نے انسانی زندگی کی واردات و کیفیات کی عکاسی بھی کی ہے۔ زمانے کے دکھ درد کو بھی انھوں نے اپنی غزلوں میں شامل کیا۔ فیض کی شاعری کے ان دونوں مزاج یعنی عشق  ومحبت اور انقلاب کے موضوعات کو دیکھتے ہوئے ن۔م۔ راشد نے فیض کی شاعری کو رومان اور انقلاب کا حسین سنگم کہا ہے۔

فیض کی غزلوں میں عشق کے موضوعات کی مختلف کیفیتیں نظر آتی ہیں۔ یعنی عشق سے مراد اصل عشق بھی ہوتا ہے اور بعض مقام پر ان کے عشق کے موضوعات علامتی بھی ہوتے ہیں۔یعنی فیض کی غزل میں محبوب سے مراد ملک اور قوم  اور رقیب سے مراد ملک و قوم کا دشمن اور ناصح سے مراد ملک کے دشمن عناصر ہوتے ہیں جو بظاہر ہمدرد دکھائی دیتے ہیں اور غلط مشورے دیتے ہیں۔بہر حال اس طرح فیض نے لفظ عشق کے ذریعے اپنے عہد کے سیاسی و سماجی مسائل کی تصویر کشی کی ہے۔ فیض کی ایسی بے شمار غزلیں ہیں جن میں عشق نظر آتا ہے لیکن وہاں ان کا مراد کچھ اور ہوتا ہے۔  اس طرح فیض نے عشق کے تصور کو بدل کر غزل کی دنیا میں ایک الگ رنگ و مزاج پیدا کیا اور غزل کے عشقیہ اشعار کے ذریعے انھوں نے سیاسی و سماجی حالات کی عکاسی بہت خوبصورت انداز میں کی ہے۔

فیض کی غزلوں کی ایک خصوصت یہ ہے کہ انھوں نے رمز و اشارہ اور کنایے سے بھی کام لیا ہے۔اس کے ذریعے انھوں نے مختلف سیاسی و سماجی حالات کی تصویر کشی کی ہے۔اسی طرح سادہ اور عام فہم علامتوں کے ذریعے بھی  انھوں نے ملکی نظام اور سیاسی پہلوؤں کو دکھایا ہے۔

فیض کی غزلوں کی ایک خوبی یہ ہے کہ ان میں نرمی کا پہلو غالب  ہوتا ہے۔ فیض بہت سادہ مزاج تھے ۔ اس کا اثر ان کی شاعری پر بھی رہا۔ یہاں تک کہ فیض نے سیاسی وسماجی خامیوں اور خرابیوں  کو نشانہ بنایا تو وہاں بھی  ان کی نرمی نظر آتی ہے۔

فیض کی زبان عام فہم اور سادہ ہے۔ فیض نے لفظوں کا انتخاب بہت غور و فکر کرنے کے بعد کیا ہے۔ جہاں جو لفظ مناسب ہوتا ہے فیض نے اسی لفظ کا انتخاب کیا ہے۔اسی طرح انھوں نے مترنم اور میٹھے الفاظ کے ذریعے اپنی شاعری کو حسن عطا کیا ہے۔ فیض کے یہاں سادگی ہے۔ ایسی سادگی  جہاں درد، تاثیر اور جذبات سب کچھ موجود ہے۔ انھوں نے بڑی سی بڑی بات بھی سیدھے سادے انداز میں کہہ دی ہے۔

فیض کی شاعری میں تشبیہات و استعارات بھی ہیں۔ وہاں بھی انھوں نے جدت پیدا کی ہے۔ خاص کر ان کی تشبیہات بے حد عمدہ ہوتی ہیں۔

بہر حال اس طرح فیض نے اردو غزل کو نیا لہجہ اور اسلوب عطا کیا اور غزل کی روایت میں ایک نئے انداز کی بنیاد ڈالی۔

ڈاکٹر مطیع الرحمٰن                                                                          

Post a Comment

0 Comments